ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آبادی کنٹرول قانون کو لے کر بہار میں بھی چھڑی گھماسان ؛ این ڈی اے میں دیکھی گئی نااتفاقی، کیا ہے کانگریس کا موقف ؟

آبادی کنٹرول قانون کو لے کر بہار میں بھی چھڑی گھماسان ؛ این ڈی اے میں دیکھی گئی نااتفاقی، کیا ہے کانگریس کا موقف ؟

Tue, 13 Jul 2021 23:14:36    S.O. News Service

پٹنہ، 13؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار میں آبادی پر قابو پانے کو لے کر حکمراں این ڈی اے کی اہم حلیف جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان زبردست زبانی جھڑپ  چھڑ ہوگئی ہے۔بی جے پی کے لیڈران چاہتے ہیں کہ بہار میں بھی یوپی ماڈل اپنایا جائے لیکن وزیراعلیٰ نتیش کمار اس معاملے میں اپنا رخ واضح کرچکے ہیں۔آج بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر اورمرکزی وزیر دیہی ترقیات گری راج سنگھ نے بھی پورے طور پر یوگی ماڈل کو بہار میں لاگو کرنے کا مطالبہ کرڈالا ہے۔

یاد رہے  کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آبادی کنٹرول کو لے کر پیر کے روز اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے قانون لانا ضروری نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’آبادی کنٹرول کے لیے قانون لانے سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ہونے والا۔ اس کے لیے خواتین کو خواندہ اور بیدار کرنا ضروری ہے۔‘‘ اُدھر  بہار کی نائب وزیر اعلیٰ رینو دیوی  کا خیال وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے نظریات سے بالکل مختلف ہیں۔ رینو دیوی کہتی ہیں کہ ’’آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین سے زیادہ مردوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مردوں میں نس بندی کو لے کر کافی خوف دیکھا جاتا ہے۔‘‘

اِدھر جنتا دل یو لیڈر اور سابق مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا نے بھی آبادی کنٹرول قانون کی حمایت کی ہے۔ حالانکہ انھوں نے اس کے لیے مشورہ کی بات بھی کہی ہے۔ کشواہا نے کہا کہ ’’وقت کے مطابق بہار میں بھی ایسے قانون کی ضرورت بڑھ گئی ہے کیونکہ جس طرح سے آبادی بڑھ رہی ہے اس کا اثر ترقی پر نظر آئے گا۔ ریاستی حکومت کو بھی مشورہ کر کے اس قانون کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

دوسری طرف اس بحث میں کانگریس بھی شامل ہو گئی ہے۔ پارٹی کے میڈیا سیل کے چیئرمین راجیش راتھوڑ نے کہا کہ ’’کانگریس پہلے سے ہی آبادی پر قابو پانے  کے لیے بیداری مہم چلاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی عوام میں بیداری پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں، جس کا ہم استقبال کرتے ہیں۔‘‘ راتھوڑ نے حالانکہ یہ بھی پوچھا کہ نتیش کمار کا یہ نجی بیان ہے یا جنتا دل یو کا بیان، کیونکہ جنتا دل یو لیڈر کشواہا کا بیان اس معاملے میں وزیر اعلیٰ سے میل نہیں کھاتا۔


Share: